جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

کہیں دھنک ہے، کہیں رنگ ماہتابی ہے

کلام: محمد وسیم مخلصؔ17 جنوری، 20212,031قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
نئے افق پہ نیا رنگ آفتابی ہے
طلوع صبح، محبت کی کامیابی ہے
وہ دلفریب تبسم شفق کا، رخ پہ ترے
خوشا اے شام! کہ چہرہ تیرا گلابی ہے
یہ لالہ زار جہاں، کارزار پیہم ہے
متاع جان بکف صیغۂ خرابی ہے
موافقت میں زمانہ، مخالفت میں ہو تم
یہ استعارۂ وقت خود احتسابی ہے
ٹھہر گئے ہیں کئی رنگ تیرے چہرے پر
کہیں دھنک ہے، کہیں رنگ ماہتابی ہے
لہو لہو ہیں عبارات زندگی مخلصؔ
زمیں تڑپ اٹھے وہ خانما خرابی ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

کہیں دھنک ہے، کہیں رنگ ماہتابی ہے - دی فری لانسر | دی فری لانسر