جو کبھی نہ آسکا ہے وہ پیام آ نہ جائے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
تیری چارہ جوئی ظالم میرے کام آ نہ جائے
میرے قاتلوں میں تیرا کہیں نام آ نہ جائے
میں سفر میں ہوں اکیلا کوئی ہمسفر نہیں ہے
میری جستجو کا سورج لب بام آ نہ جائے
کوئی گنگنا رہا تھا کہیں نغمہ ہائے غم تو
میں ڈرا کہ ضبط چھٹ کر سر عام آ نہ جائے
رہ عاشقی میں ہمدم مجھے خوف ہے تو یہ ہے
جو جنوں سے بھی ہو آگے وہ مقام آ نہ جائے
یہاں مسجدوں میں دیکھی ہے عجیب خود نمائی
یہ امام سوچتا ہے وہ امام آ نہ جائے
میرے حکمراں کے سر پر ہے جنونیت کا سایہ
جو خرد کو پارہ کر دے وہ نظام آ نہ جائے
میں اسیر آسرا ہوں سو حسن یہ سوچتا ہوں
جو کبھی نہ آسکا ہے وہ پیام آ نہ جائے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (3)
M
Mohammed Fareed Qureshi
13 جنوری، 2021ما شاء اللہ بہت خوب!
یہ امام سوچ رہا ہے وہ امام آ نہ جانے
M
Mohammad Aslam
13 جنوری، 2021یہاں مسجدوں میں دیکھی عجیب خود نمائی
S
Sameer ali salfi
13 جنوری، 2021Masha allah





