جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

کوئی آئے تو مجھے مجھ میں اٹھا کر رکھ دے

کلام: سراج عالم زخمی5 جنوری، 20212,093قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
اچھے اچھوں کو بھی دیوانہ بنا کر رکھ دے
عشق جب جس کو جہاں چاہے نچا کر رکھ دے
ایک مدت سے ہوں بکھرا ہوا صحرا کی طرح
کوئی آئے تو مجھے مجھ میں اٹھا کر رکھ دے
ٹوٹ جاتے ہیں مری جان کھلونے کی طرح
دل کسی اور ہی بستی میں چھپا کر رکھ دے
بے وفائی، وہ بلا چین سے مرنے بھی نہ دے
ہجر، وہ غم ہے کہ بنیاد ہلا کر رکھ دے
تو جو چاہے تو غزل میری مکمل کر دے
اپنے ہونٹوں کو مرے ہونٹ پہ لاکر رکھ دے
کام آئیں گے کبھی درد کے موسم میں سراجؔ
کچھ نہ کچھ اشک ہی آنکھوں میں بچا کر رکھ دے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

کوئی آئے تو مجھے مجھ میں اٹھا کر رکھ دے - دی فری لانسر | دی فری لانسر