کوئی آئے تو مجھے مجھ میں اٹھا کر رکھ دے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
اچھے اچھوں کو بھی دیوانہ بنا کر رکھ دے
عشق جب جس کو جہاں چاہے نچا کر رکھ دے
ایک مدت سے ہوں بکھرا ہوا صحرا کی طرح
کوئی آئے تو مجھے مجھ میں اٹھا کر رکھ دے
ٹوٹ جاتے ہیں مری جان کھلونے کی طرح
دل کسی اور ہی بستی میں چھپا کر رکھ دے
بے وفائی، وہ بلا چین سے مرنے بھی نہ دے
ہجر، وہ غم ہے کہ بنیاد ہلا کر رکھ دے
تو جو چاہے تو غزل میری مکمل کر دے
اپنے ہونٹوں کو مرے ہونٹ پہ لاکر رکھ دے
کام آئیں گے کبھی درد کے موسم میں سراجؔ
کچھ نہ کچھ اشک ہی آنکھوں میں بچا کر رکھ دے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





