جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

ہمارے زخم بھی برق تپاں سے ملتے ہیں

کلام: سراج عالم زخمی3 جنوری، 20211,256قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
زمیں پہ رہتے ہوئے کہکشاں سے ملتے ہیں
ہمارے رنگ بھی اب آسماں سے ملتے ہیں
ہمارے حال کی بوسیدگی پہ مت جاؤ
خزانے اب بھی پرانے مکاں سے ملتے ہیں
تری قسم کا بھی اب کیسے اعتبار کریں؟
ترے یقیں تو ہمارے گماں سے ملتے ہیں
وفا، خلوص، محبت، ہمارا حصہ ہے
ہر ایک شخص کو یہ سب کہاں سے ملتے ہیں؟
گلے نہ ہم کو لگائیں کہ آپ جل جائیں
ہمارے زخم بھی برق تپاں سے ملتے ہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

ہمارے زخم بھی برق تپاں سے ملتے ہیں - دی فری لانسر | دی فری لانسر