جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

جنت سے اتارے ہوئے لوگ

کلام: محمد وسیم مخلصؔ28 دسمبر، 20201,358قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
دشت امکان میں ادراک کے مارے ہوئے لوگ
زندگی کے سبھی میدان میں ہارے ہوئے لوگ
میرے کردار کو مشکوک بنا دیتے ہیں
یہ جو کچھ لوگ ہیں، جنت سے اتارے ہوئے لوگ
دل کے صحرا میں تری زلف کا موہوم خیال
اس خرابی میں بھلا کس کے سہارے ہوئے لوگ
سب کو یہ ضد تھی کہ مقتل یہیں لایا جائے
رقص بسمل کا جو دیکھا تو کنارے ہوئے لوگ
وہ جو پیاسے تھے مرے خونِ جگر کے کل تک
پاس آتے ہی مرے جان سے پیارے ہوئے لوگ
روک کر ہاتھ مرا جام سے کہتے ہیں کہ ’’واں‘‘
کس قدر بگڑے ہیں واعظ کے سدھارے ہوئے لوگ
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

جنت سے اتارے ہوئے لوگ - دی فری لانسر | دی فری لانسر