جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

سنا ہے وہ بھی کہیں ہاتھ جوڑ آئے ہیں

کلام: سراج عالم زخمی27 دسمبر، 20201,320قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
روایتوں کی صفیں آج موڑ آئے ہیں
پرانے عشق کے پیمانے توڑ آئے ہیں
ہم اپنے ساتھ بھلا اس کی یاد کیا لاتے
ہم اپنا آپ کہیں اس میں چھوڑ آئے ہیں
ذرا سکون سے مرنے کا وقت آیا تھا
وہ حال پوچھ کے پھر سے جھنجھوڑ آئے ہیں
جناب شیخ تو کرتے ہیں انقلاب کی بات
سنا ہے وہ بھی کہیں ہاتھ جوڑ آئے ہیں
امیر شہر ترے کاغذی چراغوں میں
غریب لوگ جگر بھی نچوڑ آئے ہیں
وہ اک بھرم تھا کہ دنیا میں جی رہے ہیں ہم
سوا خدا وہ بھرم توڑ پھوڑ آئے ہیں
شکم کی آگ بجھانے کے واسطے زخمیؔ
ہم اپنے گاؤں میں دنیا ہی چھوڑ آئے ہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

سنا ہے وہ بھی کہیں ہاتھ جوڑ آئے ہیں - دی فری لانسر | دی فری لانسر