وہ مرے نام سے منسوب رہا ہو جیسے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ڈوبنے والا کوئی ڈوب رہا ہو جیسے
زندگی تجھ سے کوئی اوب رہا ہو جیسے
میری بربادی کا قصہ بھی سنا ہنس ہنس کر
کوئی انداز بہت خوب رہا ہو جیسے
ہر زمانے میں سرِدار ہوئے اہل وفا
عشق ہر دور میں معیوب رہا ہو جیسے
اب تو ہر شخص مجھے شہر بدر لگتا ہے
مشغلہ اب یہی محبوب رہا ہو جیسے
کیوں اسے دیکھ کے ہر بار یہی لگتا ہے
وہ مرے نام سے منسوب رہا ہو جیسے
اب تو اس دل میں تمنا بھی نہیں ہے کوئی
یہ بھی پاگل کوئی مجذوب رہا ہو جیسے
مجھ کو ہر دور میں بس اذنِ تحمل ہی ملا
ایک زخمیؔ ہی بس ایوب رہا ہو جیسے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





