جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

ہمیں تو دید کی دعوت حسیں قبا نے دی

کلام: عبدالکریم شاد12 دسمبر، 20201,623قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
کبھی صدا، کبھی شوخی، کبھی حیا نے دی
نمو چراغ محبت کو ہر ادا نے دی
ہمارا شوق تو بدنام ہے یوں ہی ورنہ
ہمیں تو دید کی دعوت حسیں قبا نے دی
لگا کہ جیسے خزاں آ گئی مرے گھر میں
ترے نہ آنے کی جب بھی خبر ہوا نے دی
ہوا چلی تو چراغوں کی لو بھی تیز ہوئی
دفاع کرنے کی ہمت مجھے بلا نے دی
سفینہ کر دیا اللہ کے حوالے بس
جو بے بسی کی خبر میرے ناخدا نے دی
مریض عشق ہے، اس کا علاج ہے بے کار
طبیب کو یہ نصیحت مری دوا نے دی
قبولیت کا سبب ہی نہیں تھا میرے ساتھ
پلٹ کے آتے ہوئے یہ صدا دعا نے دی
کسی امیر کا کردار کیسا ہوتا ہے
’’تمھیں دکھائیں گے توفیق اگر خدا نے دی‘‘
چلا میں چھوڑ کے اے شاد! زیست کی انگلی
کچھ اس طرح کی صدا کان میں قضا نے دی
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

ہمیں تو دید کی دعوت حسیں قبا نے دی - دی فری لانسر | دی فری لانسر