دل بھی پاگل ہے کہ جینے کا بھرم اوڑھے ہے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
درد اوڑھے ہے، تھکن اوڑھے ہے، غم اوڑھے ہے
دل بھی پاگل ہے کہ جینے کا بھرم اوڑھے ہے
شہر نفرت کی ہواؤں کا کرم اوڑھے ہے
آگ اوڑھے ہے، دھواں اوڑھے ہے، بم اوڑھے ہے
درد آنکھوں میں اتر آیا ہے پانی بن کر
آتش سوز دروں قطرۂ نم اوڑھے ہے
عشق میں خاک نوردی کی تب و تاب کہاں
یہ جنوں ہے جو نبھانے کی قسم اوڑھے ہے
بعد مرنے کے بھی آیا نہ کوئی میت پر
مفلسی خاک بھی اوڑھے ہے تو کم اوڑھے ہے
گذرے وقتوں کی کہانی ہے یہ ایثار و خلوص
اب تو ہر شخص ہی دینار و درم اوڑھے ہے
حرف کوئی بھی تہ آب معانی نہ گیا
یوں تو ہر لفظ ہی گلگونِ ارم اوڑھے ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (1)
ع
عثمان غنی
9 دسمبر، 2020ماشاء، زبردست کیا درد ہے





