جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

درد جو شعر میں مذکور ہوا کرتا ہے

کلام: حمود حسن مبارکپوری9 نومبر، 20201,329قارئین1 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
زندگی کا یہی دستور ہوا کرتا ہے
کوئی جابر کوئی مجبور ہوا کرتا ہے
عاشقوں کا کوئی معیار نہیں ہوتا ہے
عشق میں آقا بھی مزدور ہوا کرتا ہے
بے وفائی کا نہ الزام لگاؤ مجھ پر
کفر، مومن سے بہت دور ہوا کرتا ہے
پڑھ نہیں پاتیں زمانے کی یہ بوڑھی آنکھیں
درد جو شعر میں مذکور ہوا کرتا ہے
تم ستم ڈھا کے بھی آرام نہیں پاتے ہو
دل ستم سہہ کے بھی مسرور ہوا کرتا ہے
شور ایسا ہے کہ انداز ہی کھا‌ جاتا ہے
چیختا ہے جو وہ مشہور ہوا کرتا ہے
نیند اب بھی سر بالیں ہی حسن رہتی ہے
خواب پلکوں سے ہی کافور ہوا کرتا ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (1)

ع
عبداللہ سہل
10 نومبر، 2020
ماشاء اللہ حمود بھائی.... اللہ مزید ترقی عطا فرمائے آمین

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

درد جو شعر میں مذکور ہوا کرتا ہے - دی فری لانسر | دی فری لانسر