کچھ اور
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
مانگتا ہوں میں چیز ہی کچھ اور
مجھ کو دیتی ہے زندگی کچھ اور
میرؔ کی پنکھڑی بجا لیکن
تیرے ہونٹوں کی نازکی کچھ اور
تیری ہر بات تھی بجا لیکن
تیرے لہجے میں بات تھی کچھ اور
تم نے عینک غلط لگائی ہے
ورنہ یہ آنکھ دیکھتی کچھ اور
دل میں کیا کیا خیال آتے ہیں
مجھ سے کہتی ہے آگہی کچھ اور
بام پر وہ ضرور آئے ہیں
آج چھٹکی ہے چاندنی کچھ اور
تیرگی سے عبث شکایت ہے
تو بڑھا اپنی روشنی کچھ اور
قیس و فرہاد لد گئے کب کے
اب ہے مطلوبِ عاشقی کچھ اور
بہ گیا تو بھی ساتھ موجوں کے
شاد! تجھ سے امید تھی کچھ اور
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





