جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

چرانا گناہ ہے

کلام: کاشف شکیل29 اکتوبر، 20201,344قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
دیدار کی طلب چلو مانا گناہ ہے
لیکن یوں لن ترانی سنانا گناہ ہے
بعد از فراق بزم رقیباں میں بیٹھ کر
ہنس ہنس کے دل کسی کا جلانا گناہ ہے
ہم مبتدی ہیں مکتب عشاق میں ہمیں
ناکامیوں کے قصے سنانا گناہ ہے
کاجل بکھر رہے ہوں تو میرے فراق میں
جاناں! یوں آنسوؤں کا بہانا گناہ ہے
جب خود ہی آپ غرق ہیں عصیان میں تو پھر
اوروں پہ تیرِ طنز چلانا گناہ ہے
جب رہ گزار عشق میں ہم تم سے آملیں
ایسے میں ہم سے نظریں چرانا گناہ ہے
ہو لاکھ گھر میں فاقوں پہ فاقہ مگر جناب
عزت فروخت کر کے کمانا گناہ ہے
طرحی مشاعرے میں یوں بے طرح شاعری
کاشفؔ قسم خدا کی سنانا گناہ ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

چرانا گناہ ہے - دی فری لانسر | دی فری لانسر