غم نہیں ہے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
تمھاری فکر مجھ کو کم نہیں ہے
مگر اب اس طرح ہر دم نہیں ہے
محض اک صبر ہی میری دوا ہے
ہمارے زخم کا مرہم نہیں ہے
تمھارے بن پریشانی بہت ہے
مگر میں کہہ رہا ہوں غم نہیں ہے
چلو مانا قضا میں درد ہے پر
تمھارا عشق بھی کچھ کم نہیں ہے
مجھے معشوقؔ ہر کوئی سمجھ لے
مری غزلوں میں پیچ و خم نہیں ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





