تری یاد بہت آئی ہے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
اس قدر غم کو مقدر سے شناسائی ہے
ہجر بھی ہے مری قسمت میں تو صحرائی ہے
مجھ میں اس درجہ سمایا ہے تصور اس کا
جیسے صحرا میں کوئی چاندنی در آئی ہے
آج پھر کوئی سر بزم تماشا ہوگا
آج پھر اس نے محبت کی قسم کھائی ہے
جانے کیوں اس کی ہر اک بات ہی سچ لگتی ہے
یہ الگ بات کہ وہ شخص بھی ہرجائی ہے
ہاتھ رکھ دیتا ہے منہ پر وہ شرارت کر کے
کیا طبیعت بھی مری جاں نے غضب پائی ہے
اب کے ساون نے بہت ہم کو جلایا تنہا
اب کے موسم میں تری یاد بہت آئی ہے
جس کے الفاظ سے لرزاں ہے سماعت میری
وہ کوئی اور نہیں ہے وہ مرا بھائی ہے
رت جَگے دے کے کہاں جانے وہ کھویا زخمیؔ
اب تو بس میں ہوں مری رات ہے تنہائی ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





