ہم بھی سنبھل پڑے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
اس سے کہو کہ یوں نہ سر عام چل پڑے
آخر کو دل ہے جانے کہاں کب مچل پڑے
اتنا نہ دور جاؤ کہ جینا محال ہو
یوں بھی نہ پاس آؤ کہ دم ہی نکل پڑے
کچھ فاصلہ رکھو کہ ذرا حوصلہ رہے
قربت میں یوں نہ ہو کہ جگر ہی پگھل پڑے
ایسی بلندیاں بھی نہ دیکھو کہ ٹوٹ جاؤ
اتنا نہ سر اٹھاؤ کہ گردن پہ بَل پڑے
ایسی صدا لگاؤ کہ روشن ہو انقلاب
ایسی پکار ہو کہ زمانہ اچھل پڑے
اچھا ہوا کہ اپنے ہی کچھ کام آ گئے
دھوکا دیا جو یار نے ہم بھی سنبھل پڑے
دنیا کسی سرائے کے آنگن سے کم نہیں
آئے تھے چند روز کو ٹھہرے کہ چل پڑے
حدت لبوں کی تھی کہ شرارے تھے ہونٹ پر
میرے تو ہاتھ آپ کے شبنم سے جل پڑے
لازم ہے ضبط درد کی شدت میں بھی سراجؔ
ایسی بھی آہ کیا کہ کلیجہ ابل پڑے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





