جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

آنکھ بھر آئی

کلام: ہدایت اللہ خان شمسی7 اکتوبر، 20201,793قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
تڑپ کے حال سنایا تو آنکھ بھر آئی
جو اس نے زخم دکھایا تو آنکھ بھر آئی
تھی جس چراغ سے قائم مری امید سحر
ہوا نے اس کو بجھایا تو آنکھ بھر آئی
زمانے بھر کا ستم سہہ کے مسکراتا رہا
فریب اپنوں سے کھایا تو آنکھ بھر آئی
ہمارے شہر کی گلیوں میں قہر ڈھاتے ہوئے
لہو کا سیل در آیا تو آنکھ بھر آئی
صبا نے آہ! خزاؤں کے ساتھ مل کر پھر
گلوں کا رنگ اڑایا تو آنکھ بھر آئی
جبین حال پہ ماضی کی تلخ یادوں نے
سنہری نقش بنایا تو آنکھ بھر آئی
تمام عمر تو اپنوں کی ٹھوکروں میں رہے
کسی نے سر پہ بٹھایا تو آنکھ بھر آئی
بچھڑتے وقت کسی نے جو پیار سے شمسی
مچل کے ہاتھ ہلایا تو آنکھ بھر آئی
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

آنکھ بھر آئی - دی فری لانسر | دی فری لانسر