محبت نہیں رہی
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
اب دھڑکنوں میں درد کی شدت نہیں رہی
لگتا ہے اب ہمیں بھی محبت نہیں رہی
کب تک منائیں پیار کریں التجا کریں
اب ٹوٹنے بکھرنے کی عادت نہیں رہی
کچھ ہم بھی بیقرار مسلسل نہیں رہے
کچھ اس کی وہ ادا بھی قیامت نہیں رہی
ہم نے ترے فراق میں صدیاں گذار دیں
اور تم کو یاد آنے کی فرصت نہیں رہی
بچے بڑے ہوئے تو سروں سے گذر گئے
لگتا ہے ماں کے پاؤں میں جنت نہیں رہی
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





