شام ڈھل رہی ہے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
نہ تو نبض تھم رہی ہے نہ یہ جاں نکل رہی ہے
تری دید کی تمنّا مرے دل میں پل رہی ہے
ابھی مہرباں ہیں سانسیں مری آبجوئے جاں پر
ابھی زندگی کی کشتی کسی طور چل رہی ہے
یہی طرزِ حسنِ فطرت ہےمقیم اس جہاں میں
کہیں دن نکل رہا ہے کہیں شام ڈھل رہی ہے
کہیں منتشر پڑے ہیں سبھی وحدتوں کے غنچے
کہیں نفرتوں کی کھیتی بڑی پھول پھل رہی ہے
مری لغزشوں کو ہر دم نہ ہدف بنائے دنیا
انھیں ٹھوکروں سے آخرمری خُو سنبھل رہی ہے
کوئی سائباں نہیں ہے یہاں پر حدِ نظر تک
’’یہ ہے ریت کا سمندر یہاں چھاؤں جل رہی ہے‘‘
یہاں جھوٹ کی تجارت جو چلا رہے ہیں ان کو
تری فطرتِ صداقت اے خمارؔ کھل رہی ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





