خود کی خبر نہیں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
آگاہ تیرے حسن سے میں ہوں اگر نہیں
تو بھی تو میرے عشق سے کچھ باخبر نہیں
اشکوں میں اپنے غم جو چھپاتا ہے ہر گھڑی
کیسے بھلا میں کہہ دوں کہ وہ باہنر نہیں
اک عمر ہو رہی ہے نکلتے ہوئے انھیں
جانے ہماری آہ میں کیوں کر اثر نہیں
گزری ہیں ہجر میں مری شامیں یہ سوچتے
ایسی بھی کوئی شام ہے جس کی سحر نہیں
کیسے کروں خیال تری دوستی کا جاں
ایسی جگہ ہوں میں جہاں خود کی خبر نہیں
کیسے سراج تیری غزل معتبر ہوئی
حالات حاضرہ پہ تو اک بھی سطر نہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





