جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

سمجھتا ہوں

کلام: عالم فیضی20 ستمبر، 20201,511قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
اس کی میں ہر ادا سمجھتا ہوں
پھر بھی جذبات سے الجھتا ہوں
رات بھر جگنووں کے پہرے میں
پڑھ کے لہجے میں پھر پگھلتا ہوں
ظلم و نفرت کی تند آندھی میں
بن کے شعلہ سدا بھڑکتا ہوں
مجھ کو دنیا جھکا نہیں سکتی
سچ ہمیشہ زباں پہ رکھتا ہوں
راہ حق ہے بہت کٹھن عالم
سہ کے مشکل اسی پہ چلتا ہوں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

سمجھتا ہوں - دی فری لانسر | دی فری لانسر