نظر دیکھتے ہیں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
کبھی ہم جو سوئے سفر دیکھتے ہیں
تو کم زور اپنی نظر دیکھتے ہیں
درختوں کی شاخوں میں الجھے رہو تم
جو اہل نظر ہیں ثمر دیکھتے ہیں
سڑک عشق کی پار کرتے نہیں وہ
ادھر دیکھتے ہیں ادھر دیکھتے ہیں
یہی سوچتے سوچتے عمر گزری
کدھر دیکھنا تھا کدھر دیکھتے ہیں
گزرتے ہیں سب قافلے سامنے سے
ہمی بیٹھ کر رہ گزر دیکھتے ہیں
کبھی دیکھتے ہیں کھلا آسماں ہم
کبھی ناتواں بال و پر دیکھتے ہیں
جہاں کے نظاروں پہ پابندیاں ہیں
تو ہم آج کل اپنا گھر دیکھتے ہیں
جو شاد! آئنہ دیکھتے ہیں کبھی ہم
پریشان اپنی نظر دیکھتے ہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (1)
M
Moinul Haque
21 ستمبر، 2020ماشاءاللہ کافی عمدہ کلام ہے





