جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

کیا بتاؤں

کلام: عالم فیضی11 ستمبر، 20201,234قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
کیا بتاؤں کہ آنکھ کیوں نم ہے
کس قدر بے رخی کا عالم ہے
کم نہیں حسن میں کشش تیرے
بستگی دل کی بھی کہاں کم ہے
ابر چھایا ہے کرب اور غم کا
دیدہ احساس کا بھی پرنم ہے
مشکلیں لاکھ آئیں راہوں میں
ساتھ اس کا ملا یہ کیا کم ہے
لاکھ کوئی رکھے حسد عالم
ہم کو اس کا کوئی کہاں غم ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

کیا بتاؤں - دی فری لانسر | دی فری لانسر