جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

ارادہ ہے محبت کے سفر کا

کلام: عبدالکریم شاد11 ستمبر، 20201,333قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
تو پوچھ رہا ہے کہ خدا ہے کہ نہیں ہے
غافل! تجھے احساس بقا ہے کہ نہیں ہے
اے زیست! ارادہ ہے محبت کے سفر کا
کافی ترے پہیوں میں ہوا ہے کہ نہیں ہے
اے حسن! بتا دیکھ کے بازار کا منظر
باقی تری فطرت میں حیا ہے کہ نہیں ہے
افسوس! کہا جاتا ہے کتے کو وفادار
انسان! تجھے پاس وفا ہے کہ نہیں ہے
مت پوچھ مرا حال تو اے زود پشیماں!
یہ دیکھ مرا زخم ہرا ہے کہ نہیں ہے
دو چار ملاقاتوں میں کوئی نہیں کھلتا
مت سوچ ابھی شادؔ بھلا ہے کہ نہیں ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

ارادہ ہے محبت کے سفر کا - دی فری لانسر | دی فری لانسر