جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

احساس ہی نہ تھا

کلام: سحر محمود11 ستمبر، 20202,100قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
اک دوسرے کی کوئی نہ نیّت سمجھ سکا
وہ میری میں نہ اس کی محبت سمجھ سکا
سب کو بس اپنی اپنی ضرورت سے تھی غرض
کوئی نہ دوسرے کی ضرورت سمجھ سکا
جب تک وہ میرے پاس تھا احساس ہی نہ تھا
ہو کر جدا میں قیمتِ قربت سمجھ سکا
پیغام اس نے بھیجا تھا کچھ کوڈ ورڈ میں
ناداں تھا میں نہ اس کی عبارت سمجھ سکا
ہنستا تھا عشق والوں کے حالات دیکھ کر
خود کو ہوا مرض تو اذیت سمجھ سکا
یہ میرے دل پہ کس کی حکومت ہے ان دنوں
بارالہٰ! میں نہ حقیقت سمجھ سکا
کیا کیا اٹھائی ہوگی سحؔر والدین نے
میں باپ جب بنا تو مشقت سمجھ سکا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

احساس ہی نہ تھا - دی فری لانسر | دی فری لانسر