... اشتیاق تو دیکھ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
گزر رہی ہے جدائی جو تجھ پہ شاق تو دیکھ
کبھی کبھی تُو ورائے حد فراق تو دیکھ
مری طلب نہ سہی میرا اشتیاق تو دیکھ
عبارتوں سے پرے آ، ذرا سیاق تو دیکھ
جدا ہیں جسم ہمارے، جدا ہیں رنگ و روش
تو ان کو چھوڑ کے روحوں کا التصاق تو دیکھ
تو اختلاف کی ساری حدیں بھلا تو سہی
تو اختلاف پہ ہم سب کا اتفاق تو دیکھ
کٹے ہے وقت، بھلے مجھ کو کاٹ کر ہی کٹے
اٹوٹ غم ہے۔ غموں کا یہ طمطراق تو دیکھ
وہ ہے مریض جو ہر دم متین رہتا ہے
کبھی مزاح تو سن اور کبھی مذاق تو دیکھ
وہ میٹھے بول حقیقت میں زہر قاتل ہیں
تو اس نقاب کے پیچھے چھپا نفاق تو دیکھ
یہ ہجر ہجر نہیں ہے کوئی قیامت ہے
یہ چشم تر نہ سہی دل کا انشقاق تو دیکھ
ہوئے ہیں حسن کے ورثاء تمام بیگانے
ہے خالی ہاتھ یہ کاشف شکیل عاق تو دیکھ
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (3)
ح
حبیبی یا نور العین
6 ستمبر، 2022بہت خوب کیا کہنے عزیز من .... سلامت رہیں آباد رہیں ... کیا ہی خوبصورت الفاظ کا چناؤ ... ردیف و قافیہ کا لحاظ رکھتے ہوۓ .. یہ قوت قلم موتی کی لڑیاں ہیں یا مشری کی ڈلیاں ہیں ...
الله يحفظك و طول عمرك مع الصحة والعافية ... يا اخي الفاضل حبيبي كاشف شكيل ... اخوكم ابو ريان من الباكستان ..
c
chaudhary Aaqib
26 اکتوبر، 2021Bahut khoob
A
Abdul Bari
18 اگست، 2020بہت خوب جناب





