گناہوں سے مجھے ہر دم بچاتی ہے مری شادی
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
گناہوں سے مجھے ہر دم بچاتی ہے مری شادی
نگاہوں کو عطا کرتی ہے اک پاکیزگی شادی
وہ اک سمجھوتا ہے جس کا قناعت نام رکھا ہے
ہر اک شادی شدہ کی آرزو ہے دوسری شادی
پتا چلتا نہیں اس دور میں ہے کون پاکیزہ
زنا ہے جتنا آسان اتنی ہی مشکل ہوئی شادی
کنوارے تو سرابوں کے لیے ہیں دوڑتے پھرتے
حقیقت ان کو ہے معلوم جن کی ہو چکی شادی
نہ جانے کیا کمی بارات کی خدمت میں در آئی
بنی ہے جنگ کا میدان اک اچھی بھلی شادی
امیروں نے اسے شہرت کی خاطر کر دیا مہنگا
غریبوں کے لیے ورنہ کہاں دشوار تھی شادی
فرشتوں کی صفت سب ڈھونڈتے ہیں ایک دوجے میں
بھلا کس طرح ہوگی کام یاب انسان کی شادی
لباس اک دوسرے کا بن کے رہتے ہیں تو اچھا ہے
وگرنہ کس لیے کرتا ہے کوئی آدمی شادی
حسد ہے یا مروت ہے جو سب کا مشورہ یہ ہے
جو خود کو شاد رکھنا ہے تو کر لو شادؔ جی! شادی
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





