عہد ستمگری میں نہ جاں کی اماں ملی
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
عہد ستمگری میں نہ جاں کی اماں ملی
یہ جرم ہے ہمارا ہمیں کیوں زباں ملی
چہرے کی ہر لکیر میں اِک داستاں ملی
بین السطور کرب میں ڈوبی فغاں ملی
شمشیرِ ظلم و جبر سے کاٹی گئی زباں
مظلوم وبے قصور کی جو ترجماں ملی
دشمن کو پست کرنا کوئی معرکہ نہیں
ہم سے ہماری قوم مگر بدگماں ملی
محلوں میں جشن عید منایا گیا مگر
ہرجھوپڑی غریب کی نوحہ کناں ملی
ہم نے سنا تھا لوگ فرشتہ صفت بھی ہیں
انسانیت کی خُو بھی کسی میں کہاں ملی
حالانکہ دلنشیں تھا بہت رنگِ باہری
رنگت مگر عجیب درونِ مکاں ملی
دنیاوی تجربات کا ماہر تھا جو بشر
دیکھا تو اس کی پشت بمثلِ کماں ملی
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





