جنھیں تکلیف ہے صوت اذاں سے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
جنھیں تکلیف ہے صوت اذاں سے
رہیں وہ دور جا کر اس جہاں سے
عدو کرتے ہیں ان باتوں پہ چرچا
جو باتیں کی تھیں میں نے رازداں سے
بہت پیاری تھی وہ اک بات ہمدم
جو نکلی ہی نہیں تیری زباں سے
نہیں بھاتی ہے ان کو دل کی دنیا
نئی دنیا کوئی لائے کہاں سے
سنو! اب آزمائش ختم کر دو
میں ڈرتا ہوں مسلسل امتحاں سے
وہ پتھر بھی تکبر کر رہا ہے
پگھل جاتا ہے جو آب رواں سے
سراج اس کی نہیں تعریف ممکن
ملا تھا جام جو پیر مغاں سے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





