وقت کی آنکھوں میں عکسِ ناشکیبائی نہ دیکھ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
وقت کی آنکھوں میں عکسِ ناشکیبائی نہ دیکھ
بےسبب حیرانئ چشم تمنائی نہ دیکھ
شوق کی تعمیر میں جذبوں کی پسپائی نہ دیکھ
دیکھ اپنے حوصلے کو آبلہ پائی نہ دیکھ
ہر خس وخاشاک سے ہو استوار رسم وراہ
چل کہ راہ جستجو میں وادی و کھائی نہ دیکھ
سب یہاں اپنے انا کے دار پر مصلوب ہیں
سب فریبِ چشم ہےکارِ مسیحائی نہ دیکھ
ہے رفو یہ سینہء صد چاک لیکن چارہ گر
زخم کی تہہ میں اتر اندازِ ترپائی نہ دیکھ
حرف جو معنی کودے پائے نہ اپنا پیرہن
ایسی تحریروں کی دنیا کی پذیرائی نہ دیکھ
یوں نہیں ملتی یہاں معراجِ فکر و آگہی
ڈوب جا اسرار کے سینوں میں گہرائی نہ دیکھ
فکر کی ویران دنیا ہے پسِ دیوارِ حرف
لوحِ ہستی پر یہ حسنِ خامہ فرسائی نہ دیکھ
کتنی آنکھوں کوملا ہے بے بصیری کا عذاب
قلب کو بینا بنا آنکھوں کی بینائی نہ دیکھ
ان چراغوں میں ہیں شامل کتنے ارمانوں کےخون
لذت و رنگِ متاعِ بزم آرائی نہ دیکھ
یہ بھی اک آشوبِ محشر ہے کہ سب ہیں خود پرست
اس بھری دنیا میں اب اپنا شناسائی نہ دیکھ
ہم سے وابستہ ہیں کتنے کارہائے ناتمام
ہم سے آشتفتہ مزاجوں کی یہ تنہائی نہ دیکھ
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





