حال دل
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
کہیں چشم نم میں جو اشک تھے سر شام غم وہ چھلک گئے
کہیں آرزو کے ہجوم میں کئی اہل دل بھی بہک گئے
کہیں زندگی کی ہیں رونقیں، کہیں روز روز ہلاکتیں
کوئی دام غم سے بھی بچ گیا، کئی آفتوں میں لڑھک گئے
کبھی نیند میں، کبھی ہوش میں، جو سجا سجا کے بڑے ہوئے
وہ جو خواب تھے مرے عشق کے، در غار ہجراں دبک گئے
مرا شوق تھا جو وصال کا، تری زلف کی وہ پکار تھا
کہ مسافتیں نہیں کم ہوئیں، کئی قافلے بھی بھٹک گئے
مری چشم نم مرا درد و غم، مرا سوز دل مرا زخم جاں
وہ حرارتیں تھیں کہ ہجر میں میرے غم کدے بھی دہک گئے
یہ جو فارسے کا کلام ہے یہ درون دل کا پیام ہے
مرے ہم سفر تمھیں کیا ہوا میرے ساتھ تم بھی اٹک گئے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (2)
A
Asdullah
14 جولائی، 2020Masha Allah bht hi shandar
O
Obaidur Rahman
12 جولائی، 2020اس دور میں ایسے اشعار نا پید کی طرح ہے۔ بحور سے جہالت کی وجہ سے لوگوں نے آزاذ اشعار کا بوکس ٹرینڈ چلایا۔ جو نہ نظم رہا نہ نثر۔ کفایت اللہ بھائی کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔





