جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

ماں

کلام: وارث جمال7 جولائی، 20201,357قارئین2 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
جو دن بچپن کا گزرا ہے وہ اکثر یاد آتا ہے
مجھے ماں کا حسیں و چاند پیکر یاد آتا ہے
کبھی خود کو کبھی میں دیکھتا تھا ماں کے چہرے کو
کبھی تھا کس بلندی پر مقدر یاد آتا ہے
کرم آمیز لہریں جب مِرے پیروں کو چھوتی ہیں
مجھے ماں کی دعاؤں کا سمندر یاد آتا ہے
کبھی بچپن میں اکثر ماں کے ہاتھوں مار کھانے پر
نکلنا آنکھ سے اشکوں کا لشکر یاد آتا ہے
مجھے جب بھوک لگتی ہے، مجھے جب پیاس لگتی ہے
ابلتے دیغچی میں ماں کا پتھر یاد آتا ہے
غمِ صحرا نوردی جب کبھی مجھ کو ستاتی ہے
مجھے ماں کی محبت کا گلِ تر یاد آتا ہے
فلک پر چاند تاروں کو چمکتا دیکھتا ہوں تو
لٹکتا ماں کے ماتھے کا وہ جھومر یاد آتا ہے
غموں کی دھوپ نے جب بھی ستایا ہے مجھے وارؔث
چھپانا ماں کا آنچل میں برابر یاد آتا ہے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (2)

h
humaid hasan
10 جولائی، 2020
masha Allah bahut khub aap ne waledain ki mehnat wmashaqqat yaad dila di رب ارحمهما كما ربياني صغيراً
ط
طارق أشرف
9 جولائی، 2020
ماشاء الله۔۔۔بہت خوب بھائی۔۔۔یقینا ماں کی جدائی انسان کو مار کر رکھ دیتی ہے۔۔۔ رب ارحمهما كما ربياني صغيرا

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

ماں - دی فری لانسر | دی فری لانسر