جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

غزل

کلام: سوال و جواب22 اپریل، 20181,463قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
آتا تھا روز اب تو زمانے نہیں آتا
بھولے سے اپنا چہرہ دکھانے نہیں آتا
اُس کو بھی کارو بارِ جہاں یاد آگئے
ہم کو بھی اب مزید نبھانے نہیں آتا
باتیں زمانے بھر کی سنا اُس نے جو کہا
ہم سے تو حال دل بھی سنانے نہیں آتا
ہم آ تو گئے شہر تمنا کو چھوڑ کر
کیا کیا جتن کروں کہ بھلانے نہیں آتا
جس کو رہا خیال سدا میری خوشی کا
اب روٹھ گیا ہوں تو منانے نہیں آتا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

غزل - دی فری لانسر | دی فری لانسر