جس کو سمجھا تھا اپنا دغا دے گیا
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
جس کو سمجھا تھا اپنا دغا دے گیا
تنہا رہنے کی مجھ کو سزا سے گیا
تیرا یوں پیار سے دیکھنا جان من
مسکرانے کی مجھ کو ادا دے گیا
ہمسفر تھا مرا راہ پر خار میں
ہر قدم پر مجھے حوصلہ دے گیا
بن کے آندھی وہ جیون میں آیا مرے
"بجھتے شعلوں کو گویا ہوا دے گیا"
میں تھا بیمار اُس کو خبر جب ملی
اپنے آنچل کی مجھ کو ہوا دے گیا
وہ جنم دن کے موقع پہ آیا تھا گھر
اور تحفہ مجھے پیار کا دے گیا
تو نکالا گیا ہے ہر اک بزم سے
تیرا کرتوت تجھ کو سزا دے گیا
کیا وہ اپنا تھا سؔاجد بتاؤ مجھے
کون پیچھے سے تم کو صدا دے گیا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





