جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

دیجیے اس کا بھی حصہ باپ کی جاگیر سے

کلام: سحر محمود5 جولائی، 20201,331قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
دیجیے اس کا بھی حصہ باپ کی جاگیر سے
آپ کو سچی محبت ہے اگر ہم شیر سے
اتنی عجلت میں نہ کہہ پائیں گے کھل کر دل کی بات
“راستے میں وہ اگر مل بھی گئے تقدیر سے”
جب دلوں میں ایک دوجے کی کوئی عظمت نہ ہو
فائدہ کچھ بھی نہیں ہے ظاہری توقیر سے
درد کا رشتہ ہے ان کا اور میرا مشترک
بس یہی رشتہ ہمیں جوڑے ہوئے ہے میر سے
کامیابی چومنے لگ جائے گی اس دن قدم
مل گئی تدبیر میری جس گھڑی تقدیر سے
کتنے چہروں سے غموں نے چھین لی ہیں رونقیں
سب جواں سالی میں ہی لگنے لگے ہیں پیر سے
غم سے جانے والوں کے ہو جاتا ہے بوجھل یہ دل
اس لیے بھی ہوتی ہے وحشت مجھے تصویر سے
اس سے بڑھ کر پیار ہے تجھ سے مجھے جانِ حیات!
پیار رانجھا کو تھا جتنا اپنی پیاری ہیر سے
اعترافِ جرم کی جرأت کوئی کرتا نہیں
ورنہ کوئی پاک کب ہے اے سحر تقصیر سے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

دیجیے اس کا بھی حصہ باپ کی جاگیر سے - دی فری لانسر | دی فری لانسر