مولانا عبد الرب رحیمی کے سانحۂ ارتحال پر
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
نوٹ: مولانا عبد الرب رحیمی رشتے میں میرے ماموں ہوتے تھے۔ (سحر محمود)
ہر گھڑی چہرے پہ مسکان سجانے والا
غمزدہ کو بھی تکلم سے ہنسانے والا
اس طرح ہوگیا وہ ہم سے جدا پل بھر میں
وہم میں بھی نہ تھا دنیا سے ہے جانے والا
کتنا خوش خلق تھا، محبوب نظر تھا سب کا
کوئی کردار نہیں اس کا بھلانے والا
خدمت دین سے تھا اس کو بہت خاص شغف
حق کا پیغام تھا تا عمر سنانے والا
خدمت خلق کے جذبے سے بھی معمور تھا وہ
کام ہر ایک کے وہ شخص تھا آنے والا
سادگی اس کی تھی پہچان زمانے بھر میں
کوئی بھی رنگ نہ تھا اس میں دِکھانے والا
اس کی رحلت کی خبر سے ہیں سبھی افسردہ
ہر کوئی کہتا ہے ایسا نہیں آنے والا
جس سے بھی اس کا تعلق رہا محزون ہوا
ہند و نیپال کا ہر ایک گھرانے والا
بھول سکتا ہوں سحر کیسے وہ پیارا چہرہ
یاد آتا ہے ہر اک لہجہ لبھانے والا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (1)
م
محمد طاہر ابن عبد السلام
3 جولائی، 2020اللہ تعالی ماموں جان کی مغفرت فرمائے





