نمک زخموں میں تم میرے جو بھر جاتے تو اچھا تھا
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
نمک زخموں میں تم میرے جو بھر جاتے تو اچھا تھا
عزیزو! مجھ پہ یہ احسان کر جاتے تو اچھا تھا
مرے کچے مکاں تک غم کے آتے ہیں سبھی رستے
تمھارے بھی محل تک کچھ ڈگر جاتے تو اچھا تھا
مجھے معلوم ہے کہ طول غم کے بعد ہیں خوشیاں
مگر یہ دن ذرا جلدی گزر جاتے تو اچھا تھا
لہو میں جسم لت پت اور زباں پر شکر کا نغمہ
پرندے لوٹ کر ایسے نہ گھر جاتے تو اچھا تھا
نہ اڑنے کی تمنا میں جہاں میں یوں لیے پھرتا
اگر تم بال و پر میرے کتر جاتے تو اچھا تھا
بھرم آنکھوں کا میری ٹوٹنے پاتا نہیں ہمدم
نقاب رخ ہٹا کر تم گزر جاتے تو اچھا تھا
مجھے تو آب بھی انگور کا مخمور کردے گا
شرابی آنکھ لے کر تم ٹھہر جاتے تو اچھا تھا
چھپے ہیں زخم جو دل کے نہاں خانے میں صدیوں سے
وہ سانچے میں غزل کے اب اتر جاتے تو اچھا تھا
مرے دل میں سراج اب تو یہی خواہش ہے اک باقی
غریبوں کے مقدر کچھ سنور جاتے تو اچھا تھا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





