جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

تو مجھ کو یہ بتا کہ پریشاں ہے کس لیے

کلام: نذیر اظہر کٹیہاری1 جولائی، 20201,806قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
تو مجھ کو یہ بتا کہ پریشاں ہے کس لیے
چہرے پہ تیرے رنج نمایاں ہے کس لیے
آفت ہے سر پہ آج تو کل ٹل ہی جائے گی
چھوٹا یہ صبر کا ترا داماں ہے کس لیے
یہ جسم تیرا خاکی ہے، مرنا بھی ہے تجھے
اتنا تو اپنے آپ پہ نازاں ہے کس لیے
یہ پوری عمر تیری تغافل میں کٹ گئی
ناکامیوں پہ اپنی تو نالاں ہے کس لیے
ممکن ہے بجلی فقر کی تجھ پر بھی آ گرے
مسکین و ناتواں پہ تو شاداں ہے کس لیے
منزل کی جستجو ہے اگر تجھ کو اے رفیق!
"رستے کی مشکلوں سے ہراساں ہے کس لیے"
اظہر تو چاہتا ہے اگر قلب کا سکوں
پھر رب کے ذکر سے تو گریزاں ہے کس لیے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

تو مجھ کو یہ بتا کہ پریشاں ہے کس لیے - دی فری لانسر | دی فری لانسر