جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

ستم گر! قتل کر دے، مجھ کو تڑپانے سے کیا ہوگا؟

کلام: عبدالقادر منیر کٹیہاری1 جولائی، 20201,490قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
ستم گر! قتل کر دے، مجھ کو تڑپانے سے کیا ہوگا؟
یوں تیرا فائدہ تا عمر رلوانے سے کیا ہوگا؟
ہمیں تو تشنگی ہے قلزم آشامی کی اے ساقی!
ہمارا، تیرے قطرہ بخش پیمانے سے کیا ہوگا!
بہار آئے گی جب تو پھول کھل جائیں گے خود، بلبل!
خزاں میں تیرے رونے اور چلانے سے کیا ہوگا!
ہے کام اندیشہ سود وزیاں تو عقل والوں کا
یہ جھنجھٹ پالنا مجھ جیسے دیوانے سے کیا ہوگا!
جو فرماتے ہیں اے واعظ! کبھی کرکے بھی دکھلاتے!
عمل سے عاری رہ کر وعظ فرمانے سے کیا ہوگا!
گہن لگ جائے گا سورج کے چہرے کو، ٹھہر، مت جا
پتہ ہے؟ مہ جبیں! چھت پر ترے جانے سے کیا ہوگا؟
میں جب تک تھا تو سنورے تھے، نہیں ہوں میں تو برہم ہیں
نہ کہنا میرے گیسو کا ترے شانے سے کیا ہوگا؟
جگر جب خون ہوتا ہے تو کوئی شعر بنتا ہے
عروض وبحر کے دفتر بھی رٹ جانے سے کیا ہوگا
جو دانہ پروری جانو تو اک دانہ ہی خرمن ہو
منیر بے ہنر کہتا ہے اک دانے سے کیا ہوگا؟
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

ستم گر! قتل کر دے، مجھ کو تڑپانے سے کیا ہوگا؟ - دی فری لانسر | دی فری لانسر