غموں کے عہد میں کوئی تو ہم سے بات کرے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
غموں کے عہد میں کوئی تو ہم سے بات کرے
نظر ملائے ذرا اور التفات کرے
لبِ خموش سے کیا کچھ بیاں نہیں ہوتا
میں چاہتا ہوں تو آنکھوں سے دل کی بات کرے
مرے وجود میں شامل جو تیری ذات ہوئی
یہ دنیا کیسے الگ تیری میری ذات کرے
بچھڑ کے تجھ سے ہوں میں نیم جاں مری جاناں
مری بھلی ہو طبیعت اگر تو بات کرے
ہمارے عشق کی دنیا بھی ہے تذبذب میں
کبھی نفی کرے وہ تو کبھی ثبات کرے
اسی لیے تو عطائی غزل کمال کی ہے
تو لفظ لفظ میں اپنے صنم کی بات کرے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (4)
I
Imran Ataai
1 جولائی، 2020آپ کی ذرہ نوازی کا تہہ دل سے مشکور ہوں محترم شکیل انصاری صاحب
I
Imran Ataai
1 جولائی، 2020بہت بہت شکریہ محترم شکیل انصاری صاحب
ش
شکیل انصاری
1 جولائی، 2020واہ کیا شاعری کی ہے آپ نے.
ش
شکیل انصاری
1 جولائی، 2020واہ کیا شاعری کی ہے آپ نے





