سفر میں ہم تری یادیں بہم ہونے نہیں دیں گے
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
سفر میں ہم تری یادیں بہم ہونے نہیں دیں گے
کہ پھر اسباب مجروح قدم ہونے نہیں دیں گے
رخ بے تاب سے بکھرے ہوئے گیسو ہٹائیں گے
تری چشم تمنائی کو نم ہونے نہیں دیں گے
اٹھائیں گے کف مجروح سے اس بار ہستی کو
تجھے اے جاں گرفتار الم ہونے نہیں دیں گے
بہت الجھا دیا ہے دام حسرت نے ہمیں لیکن
تجھے ہم مبتلائے پیچ و خم ہونے نہیں دیں گے
تمھارے جسم پر ہم خاک تو ڈال آئے ہیں لیکن
تمھیں ہم دل سے روپوش عدم ہونے نہیں دیں گے
فروزاں ہیں کئی شمعیں حریم جاں کے طاقوں پر
کہ احساسات کے شعلوں کو کم ہونے نہیں دیں گے
تجھے معلوم ہے اے دل مری آنکھوں کے یہ آنسو
مری روداد پابند قلم ہونے نہیں دیں گے
جفائیں، سوزشیں، طرز تغافل اور بیزاری
یہ کاروبار سامان ستم ہونے نہیں دیں گے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





