جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

سر دنیا قیامت خیز منظر سے گزرتے ہیں

کلام: فائز بلرامپوری20 جون، 20201,937قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
سر دنیا قیامت خیز منظر سے گزرتے ہیں
چلو اب ہم حریم ذات سے نیچے اترتے ہیں
تعاقب میں ہم اپنے خواب کے کس اور آ پہنچے
ٹھہر اے زندگی کچھ احتساب شوق کرتے ہیں
یہی وہ رہ گزار منزل خواب و تمنا ہے
یہیں پر رہ روان شوق آ آ کر ٹھہرتے ہیں
یہی ہے جلوہ گاہ عشرت عالم، یہی دل ہے
یہیں سے اہل دنیا دامن امید بھرتے ہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

سر دنیا قیامت خیز منظر سے گزرتے ہیں - دی فری لانسر | دی فری لانسر