جہاں پر ہار کر اہل خرد سر کو جھکاتے ہیں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
جہاں پر ہار کر اہل خرد سر کو جھکاتے ہیں
وہاں بھی جھومتے گاتے سبھی دیوانے جاتے ہیں
ہمیشہ بے نیازی کا شرف حاصل ہوا ان کو
خدا کے سامنے راتوں میں جو آنسو بہاتے ہیں
مجھے شطرنج سے بھی اب تلک اتنی سمجھ آئی
سپاہی سر کٹا کرکے حکومت کو بچاتے ہیں
نہیں ان کا تعلق ہے ریاضی سے مگر پھر بھی
کبھی تقسیم کرتے ہیں کبھی مجھ کو گھٹاتے ہیں
ہیں جتنے قاعدے یاں لازم و ملزوم کے سارے
سبق دیتے ہیں دنیا کو کہ یوں رشتہ نبھاتے ہیں
ہمیں مایوس کرتی ہیں ہماری وہ امیدیں ہی
کہ جن کے واسطے اکثر خودی کو ہم مٹاتے ہیں
نہیں ہے شاعری سے اے سراج ان کو شغف پھر بھی
نہ جانے کیوں غزل تیری وہ اکثر گنگناتے ہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





