جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

کس جرم کی ملی ہے سزا یاد آ گیا

کلام: کشفی بریلوی6 جون، 20201,711قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
کس جرم کی ملی ہے سزا یاد آ گیا
برسوں سے کیوں خفا ہے خدا یاد آ گیا
رہتے ہیں ہر گھڑی وہ خفا، یاد آ گیا
ان کا طریق مہر و وفا یاد آ گیا
پڑھنے کے بعد آج بھی قرآن غور سے
کیسا سرور مجھ کو ملا یاد آ گیا
معلوم جب ہوا کہ ہمیں چاہتے ہیں وہ
اپنی عبادتوں کا صلا یاد آ گیا
تنہائیوں کے گھر میں مجھے قید کر کے وہ
اب کیا کرے گا مجھ سے وفا یاد آ گیا
آیا ہوں رب کے پاس تو پوچھے ہے ہر کوئی
"کیا بات ہوگئی جو خدا یاد آ گیا"
ہم بھی کسی زمانے میں اُس کے رفیق تھے
اس بے وفا کو کیسے بھلا یاد آ گیا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

کس جرم کی ملی ہے سزا یاد آ گیا - دی فری لانسر | دی فری لانسر