دلِ رقیب میں کس درجہ کھوٹ ہے دیکھو
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
دلِ رقیب میں کس درجہ کھوٹ ہے دیکھو
لگائی پشت پہ پھر چھپ کے چوٹ ہے دیکھو
ہر ایک جزوِ بدن اس کے حکم کا ہے غلام
دماغ ہی تو بدن کا ریموٹ ہے دیکھو
جو دل میں آتا ہے بے فکر ہو کے کرتا ہوں
میسر اس کے تغافل کی اوٹ ہے دیکھو
بچاتا ہے مجھے موسم کی ناگہانی سے
مرے بدن پہ ارادوں کا کوٹ ہے دیکھو
خریدے جاتے ہیں اب تو یہ چند سکوں میں
بہت ہی سستا رعایا کا ووٹ ہے دیکھو
سوا بھبوت کے ان سادھوؤں کے جسموں پر
کوئی قبا نہ حیا کی لنگوٹ ہے دیکھو
ہمیں گناہوں کا دریا ڈبو نہیں سکتا
ہمارے پاس یہ تقویٰ کی بوٹ ہے دیکھو
جو دیکھ پاؤ تو اے شاؔد دل کی آنکھوں سے
کتاب زیست میں ہر بات نوٹ ہے دیکھو
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





