جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

آندھیاں بغض وعداوت کی چلانے والے

کلام: خمار دہلوی1 جون، 20201,373قارئین1 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
آندھیاں بغض وعداوت کی چلانے والے
گُل نہ کر پائے دیے میرے گھرانے والے
لامکانی کی اذیّت میں بسر کرتے ہیں
اونچی اونچی یہ عمارات بنانے والے
میں بچا ہوں تو نشانے سے بچا ہوں کیسے
محوِ حیرت ہیں سبھی تیر چلانے والے
دل اگر دل سے ملائیں تو کوئی بات بنے
رسم دنیا کے لیے ہاتھ ملانے والے
گھر میں رہتا ہے کوئی خوف کا سایہ، جب تک
لوٹ کے آتے نہیں کام پہ جانے والے
کیوں پشیماں نہیں ایوان سیاست جبکہ
خودکشی کرنے لگے فصل اگانے والے
گو کہ یہ علم رہا پھر بھی شجرکاری کی
چھاؤں میں رہتے نہیں پیڑ لگانے والے
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (1)

پ
پنڈت پریم بریلوی
3 جون، 2020
واہ واہ بہت ہی عمدہ غزل استادِ محترم 🙏

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

آندھیاں بغض وعداوت کی چلانے والے - دی فری لانسر | دی فری لانسر