جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

میری آنکھوں کا جو تم رزق اٹھا لے گئے ہو

کلام: کشفی بریلوی2 جون، 20202,138قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
میری آنکھوں کا جو تم رزق اٹھا لے گئے ہو
ایسا لگتا ہے کہ تم میرا خدا لے گئے ہو
وہ مرے پاس تھا، کیا تم کو برا لگتا تھا؟
کیوں مرے پاس سے تم اُس کو بلا لے گئے ہو
جب کبھی تم نے مجھے ہجر کا تحفہ بھیجا
وصل در وصل کی تم مجھ سے دُعا لے گئے ہو
گر ملاقات ہو اس سے تو مرے ذکر کے بعد
اتنا کہنا کہ میری نیند چرا لے گئے ہو
تم محبت کو ترس جاؤ گے اک دن جاناں
میرے ہاتھوں سے جو دامن کو چُھڑا لے گئے ہو
اپنے کشفی کو ہی محرومِ زیارت رکھ کر
زندگی بھر کے لیے خود کو چُھپا لے گئے ہو
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

میری آنکھوں کا جو تم رزق اٹھا لے گئے ہو - دی فری لانسر | دی فری لانسر