جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
ہوم پیج

سہانے خواب کے منظر کہاں تلاش کروں

کلام: سراج عالم زخمی1 جون، 20201,904قارئین0 تبصرےمطالعے کا وقت: ۱ منٹ
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
سہانے خواب کے منظر کہاں تلاش کروں
درون دشت سمندر کہاں تلاش کروں
یہ دل تو ٹوٹ کے کب کا بکھر گیا جاناں
اب اس کو جسم کے اندر کہاں تلاش کروں
تمہارے بعد تو دنیا اجڑ گئی میری
تمہارے بعد کوئی گھر کہاں تلاش کروں
اب اس صدی میں تو انسان تک نہیں ملتے
میں اس صدی میں پیمبر کہاں تلاش کروں
وہ ایک شخص جو بستا ہے میری غزلوں میں
اس ایک شخص کو جا کر کہاں تلاش کروں
جو سوچتا ہوں وہ لفظوں میں آ نہیں سکتا
میں حرف غم کے برابر کہاں تلاش کروں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu

دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں

تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔

تبصرے و آراء (0)

ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔

آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!

اپنا تبصرہ یا رائے ارسال کریں

متعلقہ مضامین

سہانے خواب کے منظر کہاں تلاش کروں - دی فری لانسر | دی فری لانسر