میں کیا بتاؤں مجھے کیا تری نظر سے ملا
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
میں کیا بتاؤں مجھے کیا تری نظر سے ملا
وہی جو رات کو تابانیِ قمر سے ملا
کرو گے اپنی صفائی میں پیش کیا آخر
تمھارا تیرِ نظر تو مرے جگر سے ملا
کبھی پلٹ کے بھی دیکھا کہ کھو گیا کیا کیا
یہ مانا کچھ تمھیں دنیا کی رہ گزر سے ملا
یہ میرا عکس ہے آئینے! ایک بات بتا
اسے میں ڈھونڈ رہا تھا تجھے کدھر سے ملا
اتارا آنکھ سے چشمہ تو مجھ پہ راز کھلا
گلی گلی جسے ڈھونڈا وہ اپنے گھر سے ملا
نہ جانے کیسے مرے ضبط نے اسے پالا
میں آج اپنے ہی اندر کے جانور سے ملا
ملیں گی دل کی لکیریں وفا کے نقطے پر
ادھر سے میں بھی ملاتا ہوں تو ادھر سے ملا
جب آئی دھوپ تو سایہ ابھر گیا میرا
ہزار شکر کہ میں اپنے ہم سفر سے ملا
مرے وجود کو دنیا نے ڈھا دیا اے شاد!
جہان بھر کا خزانہ مرے کھنڈر سے ملا
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





