یہی اصول ہے قدرت کا زندگانی میں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
یہی اصول ہے قدرت کا زندگانی میں
کبھی خوشی تو کبھی غم ہے دارفانی میں
ملے گا عرش کا سایہ تمھیں بھی محشر میں
کروگے رب کی عبادت اگر جوانی میں
ثبات ہے نہیں دنیا میں جب کسی کو بھی
مگن ہو کیوں بھلا پھر اپنی لن ترانی میں
بچو گناہ سے، کیا علم یہ ہماری روح
نکل نہ جائے کہیں مرگِ ناگہانی میں
نہ چھوڑو تم کبھی بھی ساتھ حق بیانی کا
زباں تمھاری کٹے کیوں نہ حق بیانی میں
ابھی ہے وقت، کرو قدر تم جوانی کی
کہیں نہ یوں ہی گزر جائے بے دھیانی میں
خسارہ اپنا ہی کرتے ہیں وہ سدا اظہر
رہا جو کرتے ہیں ہر وقت بدگمانی میں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (0)
ابھی تک اس تحریر پر کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا۔
آپ اپنی قیمتی رائے کا اظہار نیچے فارم کے ذریعے کر سکتے ہیں!





