اہل زبان و صاحب دستار چپ رہیں
فونٹ سائز:
یہ تحریر سنئے
مطالعہ کا انداز:
اہل زبان و صاحب دستار چپ رہیں
محو کلام ہم ہیں کلہدار چپ رہیں
بولیں گے صرف اہل جنوں بارگاہ میں
دربار عشق ہے یہاں ہوشیار چپ رہیں
ہم خود ہی اپنا دام بتائیں گے سوچ کر
یہ شہر دل ہے اس میں خریدار چپ رہیں
بربادیوں پہ میرے کوئی تبصرہ نہ ہو
سب چارہ ساز چپ رہیں غمخوار چپ رہیں
مجرم بنا دیا مجھے دے کر صفائیاں
للٰہ اب تو میرے طرفدار چپ رہیں
جی بھر کے پہلے زخم کے تحفے عطا ہوئے
پھر حکم یہ ہوا ہے کہ بیمار چپ رہیں
کیسے بھلا چھپائے کوئی ماجرائے دل
آنکھیں نہ بولتی ہوں تو سو بار چپ رہیں
اتنا کرم تو حال پہ کر دیجئے حضور
سچ بولنا نہیں ہے تو سرکار چپ رہیں
زخمی یہ میری موت کوئی سانحہ نہیں
کہہ دو نہ روئیں میرے عزادار چپ رہیں
اعلامیہ و ادارتی وضاحت: اس تحریر میں ظاہر کی گئی آراء اور بیانات مصنف کی ذاتی رائے ہیں، ادارہ ‘دی فری لانسر’ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کسی بھی تحریر کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری خود مصنف پر عائد ہوتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ہمارا قانونی اعلامیہ و ٹیک ڈاؤن پالیسی ملاحظہ فرمائیں۔
اس مضمون کا علمی کوئز تیار کیا جا رہا ہے...
آفیشل واٹس ایپ چینل — The Freelancer Urdu
دی فری لانسر کے باضابطہ واٹس ایپ چینل سے جڑیں
تمام نئی وقیع تحریریں، علمی و تحقیقی مضامین اور ادبی کالم براہِ راست اپنے موبائل پر حاصل کریں۔
تبصرے و آراء (1)
س
سحر محمود
31 مئی، 2020بہت عمدہ





